اجنبی اندھیرا

امرتاپریتم

ایک اندھیرا تھا،جسے وہ جب سے پیدا ہوئی تھی،پہچانتی تھی۔۔۔۔۔۔
پیدا ہوئی تھی، تو کسی کی آوازکانوں کو سنائی دی تھی ،شاید دادی اماں کی ،کہ ”چھوٹی آگئی ۔“
اس سے پہلے گھر میں ایک اور بیٹی تھی ،اس لےے درجے کے مطابق یہ پیدائشی لحاظ سے چھوٹی پیدا ہوئی تھی ۔پھرسال سواسال تک وہ چھوٹی رہی تھی کہ گھر میںایک اور بیٹی پیدا ہو گئی تھی،تو یہ درجے کے مطابق ”درمیانی “ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
نہ ماں زندہ رہی ،نہ نئی پیدا ہوئی بیٹی ۔درمیانی ایک اندھیرے میں اسی طرح کھڑی رہی، اور وہ اندھیرے سے مانوس ہو گئی ۔اس کا کسی نے کوئی نام نہیں رکھا۔اسی طرح بغیر نام کے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔”درمیانی۔۔۔۔۔“
پھر وقت کےساتھ بڑی اس دیس چلی گئی جسے پیا کا دیس کہا جاتا ہے ۔اور باپ اس دیس سدھار گئے ،جہاں جا کر کوئی واپس نہیں آتا ۔اور پھرگھر میںآنے جانے والا جس کے بارے میں کہاجاتا تھی کہ اس کے باپ کا دوست ہے ،اس نے اندھیرے میں ایک راہ دکھائی ،جہاں قدم قدم چلتی وہ آخر اپنی روٹی کمانے والے سہارے تک پہنچ گئی ۔
بڑی کھاتے پیتے گھرانے میں بیاہی گئی تھی ،درمیانی کو بھی وہ بہو بیٹیوں کی طرح اپنے گھر کی چھت تلے رکھ سکتی تھی ۔ لیکن،”اپنے بدمعاش کا کیا کرو،آنکھوں کے سامنے اس کی جوانی ادھڑتی کیسے دیکھوں۔“والی بات تھی ،جس کے ہاتھوں وہ درمیانی کا سہارا نہیں بنی تھی اور درمیانی نے بے سہارا ہونے کی حقیقت بھی اندھیرے کی طرح برداشت کر لی تھی۔
روٹی کمانے کا سہارا ایک گاﺅں کے چھوٹے سے اسکول کی چھوٹی سی نوکری کا تھا۔ اس سہارے کی مدھم سی روشنی میں اس نے پہلی دفعہ اپنا نام ڈھونڈ ھا ،خود ہی ،جوہاتھ لگا ۔ یہ نام ”وچنی “تھا،جو اس نے درمیانی کے حروف ادل بدل کر اپنے ساتھ جوٹ لیا۔۔۔۔۔۔لیکن جو ابھی بھی اس کی یاداشت کو بیگانا معلوم ہوتا تھا،اتنا کہ کئی دفعہ اس کی یاداشت میں آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اس اندھیرے میںایک حادثہ رونما ہوا ۔اس کے باپ کے دوست اور اس کے تعلقات کی کہانی اسکول میںہر زبان پر تھی ۔جس کے نتیجے میںاس آدمی نے اپنی نوکری بچانے کے لیے وچنی سے کہا کہ اسکول سے نوکری چھوڑ دے ۔یہ سچ ہے ۔یہ سہارا چھوڑتے وقت وچنی کے ہاتھ کانپ گئے۔۔۔۔۔۔لیکن اس آدمی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ اس سہارے کی جگہ پر وچنی نے اس کا ہاتھ تھامتے اندھیرے کابوجھ بھی اٹھا لیا۔
تو یہ اندھیرا تھا ،جس کو وہ جب سے پیدا ہوئی تھی، پہچانتی تھی۔لیکن آج جب اپنا گاﺅں چھوڑ کر اس بڑے شہر کی راہ لی ،تو اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پاﺅں رکھتے دیکھا۔۔۔۔۔۔سامنے ایک اجنبی اندھیرا ہے ،بمعہ اس شہر کی جگمگاتی روشینوں کے،جو پہلے واقف اندھیرے سے بالکل مختلف قسم کا ہے۔۔۔۔۔۔
اور اس نے گھبراکر اپنے دائیں طرف ٹٹولتے ،اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا،جو اس کے باپ کا دوست بتایا جاتاتھا۔اور جو آج اس کو ایک اجنبی شہر میں لے کر آیا تھا، اور کہہ رہا تھا ،”بڑے شہروں کی باتیں اور ہوتی ہیں ،وہاں گاﺅں کی طرح کوئی کسی کی طرف انگلی نہیںاٹھاتا۔۔۔۔۔۔ تم کو پہلے سے اچھی نوکری ملے گی ۔۔۔۔۔۔میںہر ہفتہ وا ر چھٹی کو تمہارے پاس آﺅں گا۔۔۔۔۔۔پھر بس گنتی کے سال رہتے ہیں ،گزر جائیں گے،اور جب میں پینشن لے لوںگا ،تمہارے پاس آ کر گھر بساﺅں گا۔۔۔۔۔۔“
اسی آسرے میں معلوم نہیں احسان مندی تھی ،کہ معلوم نہیں محبت ،وچنی سے کچھ بھی فیصلہ نہیں ہو سکا ، لیکن آسرا ضرور تھا،وچنی نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور شہر کے اجنبی اندھیرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ جس میں شہر کی تمام جگمگ کرتی روشنیاں ڈوبی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔
پھر تقریباً چھ ماہ گزرگئے ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ اجنبی اندھیرا اس کو محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اجنبی ہے۔ اس نے چھوٹے سرکاری ملازموں کی بستی میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا۔ سارا دن سند کو ہاتھ میں پکڑے کئی سکولوں کے راستے ناپے ، اور پہلی تنخواہوں سے بچائے ہوئے پیسے روزانہ اس کے پلو سے گر کر پلو کو خالی کر رہے تھے ۔اور اندھیرا اسی طرح اس کو اجنبی دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس اندھیرے سے واقفیت کے لئے وہ ٹائپ سیکھنے لگی۔ معلوم ہو ا تھا کہ اس طرح کوئی تدبیر نکل آئے گی ۔ویسے تواس کے ساتھ ٹائپ سیکھنے والی کئی لڑکیاں بتاتی تھیں ،کہ شہروں میں سب سے بڑی ڈگری سفارش ہوتی ہے اور وہ گھبرا کر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی ۔جن کے پاس یہ سند نہیںتھی۔۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ میں صرف ہنر تھا ۔لیکن نوکری کے لئے جو چاہیے تھا ،وہ اس کے ہنر میں نہ تھا۔اچانک ایک دن کسی نے آ کر اسے ڈھونڈ نکالا ۔ اسے ڈھونڈے والا ایک مل کا مالک تھا ،جس نے اس کی طرف دیکھتے ہی اسے اپنے دفتر کے ایک کونے میں پڑی میز اور ایک کرسی دے دی تھی۔ اور ماہوار تنخوا بھی مقرر کر دی ۔
اس کے اپنے چھوٹے سے آئےنے نے اسے کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ ایک گرد آلود موتی کی طرح حسین ہے ۔اگر اسے دھو اور پونچھ کر کالی مخمل پر رکھ دیاجائے ، تو دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیا جائیں ۔ لیکن یہ بات مل کے مالک کو شاید اس کی ایک ہی نظر نے بتا دی تھی
اس کے باپ کا دوست ہر ہفتے نہیں،تو دوسرے ہفتے ضرور اسے ملنے آتا ۔ وہ وچنی کے بدن سے واقف ہوتے ہوئے بھی کوئی رشتہ نہیں جوڑ سکا۔لیکن ہمسائے میں اور مل کے مالک کی نظروں میں اس نے وچنی کے چچا کا رشتہ جوڑ لیا تھا۔
”ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔وچنی سوچتی ۔“ایک عورت کا اور ایک مرد کا ایک ہی کمرے میںرہنا،وچنی دیوار کا ایک حصہ ہو کر کمرے کی دیوار کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
مجھے بیچنے کے بعد بھی میرا بدن چاہتے ہو ؟ وہ دیوار کی ایک اینٹ کی طرح کمرے میں سجی ہوئی تھی ،اور پھر دیوار ساکت ہوگئی۔
اس نے ایک تیکھی نظر سے دیکھا،پھر کہا،”اگر یہاں کسی ہمسائے کو بلا لوں اور بتاﺅں میں تیرا کون ہوں،تو یہاں کسی محلے میں بھی نہیں رہ سکے گی“یہ لفظ ایک ہتھوڑا تھا ۔گہنے اور سونا، لوگوں کو صرف گنے چنے رشتوں میں ہی سمجھ آ سکتا ہے ۔ اسے فکر تھی تو صرف مستقبل کی جب وہ اپنی پہلی بیوی اور ملازمت کی مدت سے فارغ ہو کر وہاں آ جائے گا اور میرے ساتھ گھر بسائے گا ، تو پھر جن کے سامنے وہ اسے چچا کہتی ہے، پھر کیا کہے گی؟ لیکن وہ اس فکر کو ہتھیلی سے پونچھ ڈالتی ۔پھر ہمسائے بدل لوں گی ۔اور کیا معلوم اس وقت تک ملازمت بھی تبدیل ہو جائے،یہ کون سی مستقل ملازمت ہے۔
کچھ مستقل ہونے کے نام سے اگر وہ آج تک کسی چیز سے واقف تھی ،تو وہ اس کے باپ کا سہارا تھا، جو اس اندھیرے کا ایک حصہ تھا، جسے وہ جب سے پیدا ہوئی تھی پہچانتی تھی ، اس کے لیے شہر کااندھیرا ابھی تک اجنبی تھا۔اور اس لےے مل مالک بھی ،جس نے اسے اس شہر میں پہلا روزگار مہیا کیا تھا، اس کی بہت سی مہربانیاں بھی اجنبی تھیں ،جس میں ایک مہربانی یہ بھی تھی ، کہ اس نے پانچ نئی ساڑھیاں ایک گرم کوٹ اور کشمیر کی دو گرم شالیں اسے خرید کر دی تھیں ۔اور یہ سارا خرچ اس نے یہ کہ کر کیا تھا ،کہ وہ اس کی تنخوا ہ میںسے آہستہ آہستہ وصول کر لے گا۔لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا ۔کسی مہینے بھی اس کی تنخواہ نہیں کاٹی گئی ۔یہ سب وچنی کے لےے اجنبی اندھیرا تھا، جو ابھی چھپنے میں نہیں آ رہا تھا ،بلکہ کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا کہ یہ اندھیرا اور بڑھ رہا ہے ۔اس میں اس کا اپنا ہی نہیں برسوں کا پہچانا چہرہ تھا۔وہ اپنے بالوں کو باندھ کر چوٹیاں کیا کرتی تھی،لیکن مل مالک نے جب اسے ایک ہیر ڈریسر کا پتہ دے کر اس کے پاس بھیجا، تو واپسی پر اس کا اپنا چہرہ بھی اسے اجنبی محسوس ہوا۔دفتر میں سارے ملازم اسے دیکھ کر آنکھیں جھپکتے رہ گئے ۔سچ مچ کسی نے ایک موتی کو ایک دھو پونچھ کر کالے مخمل پر سجا دیاتھا۔
ایک دن تقدیر کی طرح ایک اور حادثہ ہو گیا۔ وہ ٹائپسٹ کے ساتھ سیکرٹری بھی ہو گئی ۔اس لیے مل مالک کی تمام ڈاک اسے ہی کھولنی ہوتی تھی ۔مل مالک کے نام کا خط کھولا ،جس نے اس سے پہلی طلب پر بھیجے ایک ہزار روپے کا شکریہ تھا ،اور مذید پانچ سو کا مطالبہ ۔
وچنی کے ماتھے میںایک ٹیس سی اٹھی جو اس کے پاﺅں تک پھیل گئی ۔خط کا لفظ لفظ کاغذپر ساکت تھا،لیکن اس کی آنکھوں میں لفظ لفظ تھرک رہا تھا ۔ اسے محسوس ہوا ،جیسے پرانے مانوس اندھیرے میں سے ایک پرچھائیںنکل کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی ہے۔
مل مالک کے سامنے اس کا سوال کانپا،”آپ نے ایک ہزار روپیہ انہیں بھیجا اور مجھے بتایا نہیں ۔۔۔۔۔۔؟“
چھوٹے سے جواب میں اس نے کہا،”تجھے نہیںبتایا۔ “
لیکن اس چھوٹے سے جواب میں کچھ تھا،جو نکل کروچنی کی عمر کے دور برسوں تک پھیل گیا۔
اس نے مل مالک سے صرف ایک منت کی ،کہ وہ آئندہ کبھی اس سے چوری کسی کو کچھ نہیں بھیجے گا۔
”ٹھیک ہے !تمہارے لئے دیئے تھے۔اگر تو نہیں چاہتی تو نہیں دوں گا۔۔۔۔۔۔“
مل مالک نے وعدہ کیا ۔لیکن وچنی اس سادہ سے جملے میں صرف دو لفظوں ”تیرے لئے “سے گھبرا کر رہ گئی ،جیسے اسے کوئی مانوس اندھیرے میںسے نکال کر آہستہ آہستہ اجنبی اندھیرے کی طرف لے جا رہا ہے۔
اس کے باپ کا دوست ،ہفتہ وار اور اس کے ساتھ کسی گرویا پیر کے جنم کی چھٹی پر دو دن کے لئے اس کے پاس رہتا تھا ۔جب وہ آتا ،کمرے کی ایک چابی وہ اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔وہ دوپہر کی گاڑی سے آتاتھا اور آکر خود ہی کمرہ کھول لیتا تھا۔اب کے بھی اس نے ایسا ہی کیا۔وچنی چھ بجے شام واپس لوٹی ،تو وہ کمرے میں بیٹھا تھا۔پہلی بار وچنی کو محسوس ہواکہ آج اس نے اپنانہیں غلطی سے کسی اور کا کمرہ کھول لیا ہے۔
پاﺅں دہلیز پر اٹک گئے۔
”مجھے معلوم تھاکہ تم آنے والی ہو۔دیکھو میں نے تمہارے لئے چاہے بنا رکھی ہے ۔“کمرے میںسے اس کی پہچانی ہوئی آواز ا ٓئی ۔پہچانے ہوئے اندھیرے کا ایک حصہ ۔وچنی کمرے میں داخل ہو کر چائے کی پیالی اس کے ہاتھوں سے پکڑ کر چائے بھی صبر کی گھونٹ کی طرح پینے لگی ۔
چند لمحوں کے بعد اس کے ہاتھو ں نے جو وچنی کی ساڑھی کے پلو کو کھینچتے ہوئے اس کے اعضاءکو چھونا چاہتے تھے،جسے مانوس ہاتھ چھوتے ہیں ۔ لیکن یہ لمحہ چاقو کی تیکھی دھار ایسا ہو گیاتھا،جس نے گزرتے ہوئے لمحے کو وچنی سے کاٹکر معلوم نہیں ، کہاں دور پھینک دیا، اور چھونے والے کو محسوس ہوا کہ اب ساری دیوار گر پڑی گئی ۔لیکن وچنی اینٹوں کی دیوار سے پتھر کی دیوار ہو گئی تھی ،کہا،”پہلے تم سے نپٹ لوں ،گلی ، ہمسایوں کے بارے میں بھی سوچ لو گی۔“
اس نے اٹھ کر وچنی کے ہاتھ کو زور سے بل ڈالا ،اور پھراپنا لوہے جیسا ہاتھ ا کی گر دن میں جکڑ دیا،” یہاں کون ہے تیرا، جو تجھے چھڑانے کے لئے آئے گا؟“
وچنی کو محسوس ہو ،ا کہ اس کی تواپنی چیخ بھی اس کے اپنے کانوں سے ٹکرا رہی ہے ، لیکن پھربھی اس کی چیخ نے دروازے سے بھی سر پھوڑا تھا ۔ چند لمحوں کے بعد ساتھ کے کمرے والے اس کا دروازہ کھٹکھا رہے تھے ۔ ہاتھ ڈھیلا ہوا،تو وہ اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کے پاس پہنچی اور پھر دروازہ کھول کر کمرے میں سے باہر نکل گئی۔
”یہاں میرا کون ہے۔۔۔۔۔۔؟“دروازے کے باہر سچ مچ اجنبی اندھیرا تھا۔وچنی ٹھٹھک کرکھڑی ہو گئی ،لیکن اس کے پاﺅںکے پاس شاید اس سے بھی کچھ پوچھنے کی مہلت نہ تھی ۔وہ آگے بڑھتے گئے ،گلی کے موڑ والے گھر کی طرف جس گھر میںٹیلیفون تھا۔
اس گھر سے وچنی نے ایک ٹیلیفون کرنے کی اجازت چاہی ۔نمبر ڈائل کرتے ہوئے وچنی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ یہ بھی اجنبی اندھیرا تھا، جس سے ڈر کرمیں نے ایک دن اس کا ہاتھ پکڑا تھا،اور آج اس کے ہاتھ سے چھوٹنے کے لئے میں اجنبی اندھیرے سے ایک اور ہاتھ مانگ رہی ہوں ۔وچنی کو محسوس ہوا جیسے اجنبی اندھیرے سے میںایک اور ہاتھ مانگ رہی ہوں ۔ وچنی کو محسوس ہوا جیسے اجنبی اندھیرا آج زور سے ہنس رہا ہے۔ وچنی کے کان لرز ہے تھے ، لیکن ٹیلیفون کے نمبر نہیں لرزے ۔دوسری جانب مل مالک کی آواز پوچھ رہی تھی ،”کون وچنی ۔۔۔۔۔۔ تم گھبرائی ہوئی ہو ۔۔۔۔۔۔کس سے ؟اس سے؟ اور آواز سے کہا ۔میںابھی آرہا ہوں ۔۔۔۔۔۔“
چند لمحوں کے بعد وہ پہنچ گیا ۔ایک اجنبی اندھیرے کا ہاتھ ۔۔۔۔۔۔ اور اس نے وچنی کو اس سے چھڑا لیا ۔اس کے مانوس اندھیرے سے ۔ لیکن اس رات جب کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی، اسے محسوس ہوا اب آگے ۔۔۔۔۔۔آگے۔۔۔۔۔۔اس اجنبی اندھیرے کے ہاتھ سے چھوٹنے کے لئے کسے آواز دے گی۔
اور اس کا اپنا ہاتھ اس کی بھر ی ہو ئی آنکھوں کے سامنے پھیل گیا۔معلوم نہیں،مجھے اپنے ہاتھ کا سہارا کب ملے گا۔۔۔۔۔۔کب؟۔۔۔۔۔۔کب؟۔۔۔۔۔۔؟

٭٭٭

 

 
 
 
 
 
reports,  article