لاہور ہائی کورٹ نے جواب طلب کر لیا
23جولائی 2010ءلاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد خالد محمود خان نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی طرف سے بذریعہ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حکومت پنجاب سے پنجاب کی جیلوں میں غیر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے یا طبی سہولیات نہ ہونے پر دوبارہ 5اگست 2010ءتک تفصیلی رپورٹ و جواب طلب کر لیا۔ اس کے علاوہ مسٹر جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے ردا قاضی بنام حکومت پنجاب پر بھی حکومت کو نوٹس جاری کر دئیے۔ یہ درخواست سعید معظم علی شاہ ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے اور جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی رکھنے ، ذہنی مریض اور باقی لوگوں کو ناقص سہولیات فراہم کرنے پر دائر کی گئی ہے۔
جوڈیشل ایکٹیوزم پینل (JAP)کی درخواست پر سپرٹینڈنٹ سنٹرل جیل لاہور نے اپنا جواب عدالت میں داخل کیا جسمیں انہوں نے اقرار کیا کہ قیدی اصغر علی ولد شیر محمد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہے اس کے ٹیسٹ کروالئے ہیں اور تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد اسکا علاج کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ سپرٹینڈنٹ نے بتایا کہ جیل میں قیدیوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہے ، سپیشلسٹ ڈاکٹر ہر پندرہ دن بعد جیل میں آتے ہیں ، آپریشن کیلئے مریضوں کو بلا معاوضہ علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں بھیجا جاتا ہے ، لیبارٹری میں ایکسرے ، ای سی جی، الٹرا ساﺅنڈ اور تمام دیگر لوازمات موجود ہیں۔ ذہنی مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے ، ہومیوپیتھک اور یونانی ادویات بھی دستیاب ہیں ، ٹی بی ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا بھی علاج کیا جاتا ہے ، منشیات کے عادی لوگوں کو بھی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ عدالت میں میڈیکل آفیسر سنٹرل جیل کوٹ لکھپت بھی پیش ہوئے ۔ دوران گفتگو میڈیکل آفیسر نے اقرار کیا کہ پنجاب کی جیلوں میں پانچ سو سے زائد یرقان کے مریض موجود ہیں اور انکا علاج کیا جا رہا ہے۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے میڈیکل آفیسر کو بتایا کہ وہ خود 3نومبر 2007ءکی ایمرجنسی کے بعد تقریبا تین ہفتے جیل میں رہے ہیں وہاں صاف پانی ، گندی کے ڈھیر، ناقص کھانا اور جعلی ادویات کی بھر مار ہے اوپر جو تفصیلات بتائی گئی ہیں اور ایک خواب ہے ایسی کوئی سہولیات جیلوں میں دستیاب نہ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ جہاں آپ جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں وہاں ڈائیلاسز بھی کروا دیا کریں۔
مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سے وضاحت طلب کی کہ حکومت پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات نے ابھی تک جواب کیوں داخل نہ کیا انکو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ آئندہ تاریخ سے قبل اپنا تفصیلی جواب عدالت میں داخل کریں۔
جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے پنجاب کی جیلوں میں غیر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے مختلف طرح کے میڈیکل ٹیسٹوں کی سہولیات نہ ہونے ، چھوٹے آپریشن تھیٹر اور قیدیوں کا علاج نہ کرنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9), (25) (37) (38) کے تحت ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ اسکو طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ آئین کی آرٹیکل (9)کے تحت قیدیوں کو بھی بنیادی حق حاصل ہے کہ انکو زندگی گزارنے کیلئے وہ تمام سہولیات دی جائیں جو عام آدمی کو فراہم کی جارہی ہیں۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے موقف اختیار کیا کہ 3نومبر 2007ءکی ایمرجنسی کے بعد 5نومبر کی گرفتاری کے بعد سنٹرل جیل کوٹ لکھپت اور سنٹرل جیل قصور میں طبی سہولیات کی غیر معیاری فراہمی یا سہولیات نہ ہونے کے بارے میں خود مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ جیل کے ہسپتال / ڈسپنسری میں جعلی ادویات کی بھر مار ہے اور کوئی بھی ایمرجنسی کی شکل میں ٹراما سنٹرز موجود نہ ہیں اگر کوئی چھوٹا آپریشن کرنا پڑے تو سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس لئے یہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہیں کہ جیلوں میں یہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان سہولیات میں چھوٹے آپریشن، میڈیکل ٹیسٹ، ای سی جی، ایکسرے، سی ٹی سکین وغیرہ شامل ہونے چائیں ۔ جیلوں میں ڈسپنسری و ہسپتال جدید بنیادوں پر تعمیر کی جائیں۔
اس آئینی درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بذریعہ ہوم سیکرٹری ، آئی جی جیل خانہ جات اور سپرٹنڈنٹ جیل کوٹ لکھپت کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری درخواست جو کہ ردا قاضی کی طرف سے دائر کی گئی تھی یہ درخواست آج جسٹس اعجاز احمد چوہدری کی عدالت میں پیش ہوئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں 4500سے زائد قیدی موجود ہیں جبکہ گنجائش صرف 1050قیدیوں کی ہے۔ اسکے علاوہ کئی قیدی ایسے موجود ہیں کہ جو صرف مچلکے یعنی ضمانت نامہ جمع نہیں کروا سکے اور جیلوں میں موجود ہیں۔ کئی ایسے ذہنی مریض موجود ہیں جنکا جیلوں میں علاج ممکن نہیں ، کئی نشے میں مبتلا قیدی موجود ہے انکا بھی جیل میں علاج ممکن نہیں۔ اس لئے ہدایات جاری کی جائیں کہ قیدیوں کو دیگر جیلوں میں منتقل کیا جائے اور قیدیوں کو جنہوں نے ضمانت نامہ داخل نہیں کئے انہیں رہا کیا جائے۔
٭٭٭ |