پاکستان کا پہلا واحد آن لائن ترقی پسند ہفت روزہ مزدور جدوجہد
ہوم بیسڈ محنت کش خواتین کو لیبر پالیسی میں شامل کیا جائے اور انہیں رجسٹر کر کے سماجی تحفظ فراہم کیا جائے
رپورٹ: شیربازخان
صوبائی وزیر محنت اور صوبائی وزیر خواتین کی شرکت 18 ویں ترمیم کے بعد محنت کش خصوصاً گھر مزدور خواتین کی صورت حال اور لیبر قوانین میں ان کی شمولیت اور شناخت کے حوالے سے 16 جولائی 2010 کو ایک مشاروتی اجلاس کا انعقاد کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا جس میںوومن وزیر محترمہ توقیر فاطمہ بھٹو اور لیبر وزیر امیر نواب نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف ٹریڈ یونین کے رہنماو¿ں ، سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے، سرگرم کارکنوں، مختلف علاقوں سے آئی ہوئی گھر مزدورمحنت کش خواتین اور مختلف اخباروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ مشاروتی اجلاس لیبر ایجوکیشن فاو¿نڈیشن، عورت فاو¿نڈیشن اور ہوم نیٹ پاکستان نے مشترکہ طور پر منظم کیا تھا۔اسٹیج سیکریٹری کے فرائض محترمہ زہرا اکبر خان نے انجام دیئے۔ پروگرام کے آغازمیں محترمہ عرفانہ جبار نے مزدوروں کا گیت پیش کیا۔ عورت فاو¿نڈیشن کی مہناز رحمان نے غیر رسمی شعبے کے حوالے سے پسِ منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1995 سے ملک میں موجود تنظیموں اور بین الاقوامی اداروںنے جنوبی اشیاءمیں عورتوں کی اقتصادی خود مختاری کو فروغ دینے کے لئے کافی کام کیا۔ اور ان پالیسیوں کا بھی بغور جائزہ لیا گیا کہ یہ کس طرح ہوم بیسڈ محنت کش خواتین کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی اشیا میں غیر رسمی شعبے 80 فیصدتک بڑھ چکا ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس میں 60 فیصد گھر مزدور کا حصہ شامل ہے۔انہوں نے گھر مزدور وں کی صورت حال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان گھر مزدور خواتین کو معاوضہ کم دیا جاتا ہے، کام کے اوقات کار بہت زیادہ ہوتے ہیں، انہیں مستقل بنیاد وں پر کام بھی میسر نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے پاس بارگینگ پاور ہے۔ مڈل مین ان کا استحصال کرتا ہے اور صحت کے مسائل بھی بہت زیادہ ہے اور انہیں سرمایہ دار ، ٹھیکیدار یا حکومت کی جانب سے کوئی سہولیات میسر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے خطے میں ایک عام بات یہ ہے کہ انفارمل کام میں تیز ی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں گھر مزدور خواتین کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ یہ خواتین بہت سے شعبوں میں کام کرتیں ہیں اس کے باوجود نہ ہی ان کی آواز سنی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی شناخت ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ پورے جنوبی ایشیا میں غیر رسمی شعبہ ایک بہت بڑا غیر منظم شعبہ بھی ہے جس کی وجہ سے یہ بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور نہایت ہی خراب حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ان خواتین کو سوشل سروسز اور بہت ہی بنیادی ضروریات درکار ہیں۔ ان کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے یہ خواتین ملک کے اعددو شمار اور پالیسیوں سے نظر انداز کر دی گئی ہیں، انہیں وہ تمام حقوق دیئے جائیں جو ایک عام ورکر کو حاصل ہیں۔ عورت ہونے کی بناءپر بھی ان کی اجرتیں مرد مزدور سے کم ہوتی ہیں جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے ، ان ورکروں کو چائلڈ کیئر کی سہولیات ملنی چاہئے، انہیں شناخت دی جائے۔ ہوم نیٹ پاکستان کی مینیجر محترمہ امہ لیلیٰ نے کہا ہوم بیسڈ کی تعریف میں ہمیشہ سے ہی ابہام رہا ہے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ گھر مزدور کسے کہا جاتا ہے۔ ہوم بیسڈ ورکر وہ ورکر ز ہیں جو اپنی انتخاب کی جگہ پر فیکٹری اور مارکیٹ کے لئے اجرت کے عوض کام کرتیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پورے جنوبی ایشیا میں غیر رسمی شعبہ بڑھتا جا رہاہے جس کی وجہ عالمگیرت ہے فیکٹریوں میں کام کم ہوتا جا رہا ہے اور تیزی سے کام گھرپر منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ غیر رسمی شعبے بہت بڑھ چکا ہے مگر یہ اتنا پھیلا ہوا ہے کہ نظر نہیں آتا۔ ان کی اجرت نہایت قلیل ہے اور میڈ ل مین جس ریٹ پر کام دیتا ہے ان گھر مزدور محنت کشوں کو اسی ریٹ پر کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کی بنائی ہوئی چیزیں مارکیٹ میں مہنگی داموں بک رہی ہوتی ہے مگر اس بات کا کوئی انداز ہ نہیں کہ یہ چیزیں کہاں بنتی ہیںاور پاکستان کی لیبر پالیسی میں بھی انہیں کہیں شامل نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی کسی سوشل سیکورٹی میں۔ انہوں نے بتایا کہ 2000 کی دہائی میں کھٹمنڈو ڈیکلیریشن کے بعد ان مزدور کے حوالے سے سیفٹی نیٹ کی بات کی گئی اور ہوم نیٹ کا قیام عمل میں آیا جس نے تمام ہوم بیسڈ ورکروں کی تنظیموں اور ورکروں کو اپنے ساتھ شامل کیااور ان کے ایشوز کے حوالے سے مزید معلومات حاصل ہوئی جس کے بعد حکومتی اداروں اور نمائندوں سے بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا کہ ان ورکرز کو بھی مزدور تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی ان کے حقوق دیئے جائیں اور ان کو لیبر قوانین کا حصہ بنایا جائے۔ ہمارے ملک میں ہوم بیسڈ محنت کش مزدوروں کے حوالے سے کوئی جامع اعددو شماربھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہوم بیسڈ کے حوالے سے پورے ملک میں سروے کیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو اور حکومتی اداروں سے بات چیت کے نتیجے میں آدم شماری میں ان ورکرز کے لئے بھی حصہ رکھا گیا ہے جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کتنی خواتین اور مرد اس کام سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت فی الفور آئی ایل اوکے ہوم ورک کنونشن پر دستخط کرے اور ان ورکروں کو لیگل اسٹیٹس دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہوم بیسڈ ورکرز کے لئے نیشنل پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پورے ملک میں مشاورتی میٹنگوں کے زریعے رائے اور تجاویز لی گئی جس کی روشنی میں ایک ڈارفٹ تیار کیا گیاجیسے لیبر اور وومن منسٹری نے تسلیم کیا ہے مگر اس پروسس کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہوم بیسڈ ورکرز کو رجسٹرڈ کیا جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہوم بیسڈ ورکرز کو نادرا کارڈ کے ذریعے انفردی بنیاد پر سوشل سیکورٹی میں شامل کیا جائے اور صوبائی سطح پر ایکشن پلان بناکر اس پر عمل درآمد کروایا جائے ، فارمل اور انفارمل ورکروں کے درمیان جو فرق ہے اس کو ختم کیا جائے۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے سینئر نائب صدر جناب شفیق غوری نے کہا کہ گھر مزدور طبقہ ایسا محروم طبقہ ہے جسکا صنعتی پیداوار میں ایک بہت اہم اور بڑا کردار ہے مگر ان کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ عالمگیریت کے ثمرات سرمایہ دار ملک گھسیٹ کر لے گئے ہیں اور اس کے مضر اثرات غیر رسمی شعبے کے مزدوروں پر پڑھ رہے ہیں اور ان کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے اور تمام سہولیات سے محروم ہیں جنہیں نہ معاوضہ دیا جاتاہے اور نہ ہی کوئی سماجی تحفظ حاصل ہے اور نہ ان کے علاج معالج کے لئے کوئی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان مزدوروں کو کس طرح قانون کے دائرے کار میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد جو صورتحال ہے وہ انتہائی خوفناک ہے صوبائی حکومت کو چاہئے کہ ان کو ان کا جائز حق اور مقام مل سکے۔ لیبر ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کے ناصر منصور نے کہا کہ گلابلائزیشن کے نتیجے میں گھر مزدور محنت کشوں کا کام بڑا ہے جس میں لوگوں کو حقوق حاصل نہیں زندگی کے ہر شعبے میں منظم شعبہ تیزی سے غیر منظم شعبے کی طرف جا رہا ہے۔ لوگوں کی جدوجہد کے نتیجے میں جمہوریت آئی ہے حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ ایک کروڑ آٹھ لاکھ عورتیںہوم بیسڈ کے کام سے وابستہ ہیں۔ مگر پاکستان کا قانون اس صنعت سے وابستہ مزدوروں کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ پاکستان میں صرف چار فیصد مزدور ٹریڈ یونین میں منظم ہے جب کہ آج بھی 95 فیصد مزدوروں کو ٹریڈ یونین میں شامل ہونے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہوم بیسڈ محنت کشوں کے لئے نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ سو سال پرانے مزدوروں کی تعریف کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انڈسٹری اور ایمپلائز کی تعریف بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ انفارمل ورکر ٹریڈ یونین کی طاقت ہے یہ دونوں مل کر پاکستان میں ایک مضبوط ٹریڈیونین کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ کمیشنر محمد نذیر نے کہا کہ سیسی ورکرز ویلفئیر کا ادارہ ہے جوکہ نہ صرف ورکرز بلکہ ان کے پورے خاندان کی بہبود و بھلائی کے لئے کام کرتا ہے انہیں میڈیکل کی سہولیات کے ساتھ ساتھ کیش بینیفٹ دیتا ہے۔ اس وقت 5لاکھ 75 ہزار مزدور اس شعبے سے رجسٹرڈ ہیںاور یہ کوشش ہے کہ اس سال رجسٹرڈ ورکروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گھر مزدور کی اس قانون میں گنجائش نہیں ہے لیکن اگر صوبائی قانون ساز اس قانون میںترمیم کریں گے تو ہم اس پر عمل کریں گے اورگھر مزدور محنت کش خواتین کو اس سے رجسٹرڈ کریں گے۔ صوبائی وزیر محنت امیر نواب نے کہا کہ انفارمل سیکٹر کے مزدوروں کے لئے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ جمہوریت کا نہ ہونا ہے۔ ہماری حکومت نے آتے ہی ٹریڈ یونینز پرلگائی گئی تمام پا بندی کو ختم کیا اور ہم نے 121 یونین اب تک رجسٹرڈ کی اور مشرف کا کالا قانون IRO 2002 کو ختم کیا اور IRA 2008 رائج کیا جو کہ 30 اپریل کو ختم ہو چکا ہے اور سندھ اسمبلی کی کوششوں کے نتیجے میں ہی ہم نے IRA 2010 کو نافذ کیا گو اس میں تبدیلی کی اب بھی ضرورت ہے اور مشاورتی اجلاس کے زریعے ہی اس میںاصلاحات کی جائے گی اور آپ اپنے طرف سے بھی ہمیں ایک نمائندہ دیں جو ہمیں IRA کو بہتر بنانے میں تجویز دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے چارج سنبھالا تھا اس وقت سیسی سے صرف 4 لاکھ مزدور رجسٹرڈ تھے اب کی تعداد بڑھ گئی ہے اور اس سال اس میں مزید اضافہ کریں گے اور یہ تعداد7 لاکھ تک ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ناکارہ دوائیوں کی جگہ اب اچھی کمپنیوں کی دوائیاں مزدوروں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ خواتین کے حوالے سماج میں موجود رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ا ور ان کے لئے کافی کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ صوبائی خواتین وزیر توقیر فاطمہ بھٹو نے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ خواتین ملک کی خوشحالی میں بہترین کردار ادا کر رہی ہیں اور اپنی جدوجہد کو آگے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایک آمر نے اس ملک کی ترقی میں بہت سی روکاٹیں پیدا کی اور بہت بیگاڑ پید ا کیا۔ بہت سے اداروں پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی جو کہ محنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ہوم بیسڈ ورکر خود بھی کام کرتے ہیں اور ان کا پورا خاند ان اس محنت میںشامل ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے خود بہت سے گھروں کا دورہ کیا جو چھوٹے چھوٹے گھروں میں بہت مشکل حالات میں کام کرتیں ہیں اور ان کی بنائی ہوئی چیزیں پورے ملک میں مہنگی داموں بک رہی ہوتی ہیں اور یہ سار ا فائدہ ایک مڈ ل مین لے جا تا ہے۔ انہوں نے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہوم بیسڈ محنت کش خواتین کے لئے الگ سے کوٹہ مختص کروانے کی ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ ایک گلوبل فنڈ قائم کیا جائے اور تمام فنڈز اسی میں آئے تاکہ اس کی مانیٹرنگ بھی ہو سکے اس کے علاوہ لیبر پالیسی کو وہ خود شائع بھی کریں گی۔ پروگرام کے اختتام میں اجلاس کے شرکاءنے سوالات بھی کئے۔ ٭٭٭