چشمہ جہلم لنک کینال اور سندھ سرکار رضامند ہو گئی
روزنامہ کوشش نے 17جولائی کے اداریے بعنوان ”چشمہ جہلم لنک کینال اور سندھ سرکار رضامند ہو گئی“ میں لکھا ہے کہ ”چشمہ جہلم لنک کینال 6جولائی کو غیر قانونی طور پر کھولا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ نے اس معاملے پر شدید احتجاج کیا، سندھ کے کونے کونے میں ریلیاں نکالی گئیں۔ احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ شٹر بند ہڑتال بھی کی گئی۔ سندھ سرکار نے اس احتجاجی مہم کو استعمال کرتے ہوئے ارسا کے وقتی چیئرمین شفقت مسعود کے اس آمرانہ فیصلے کو چیلنج کیا۔ آخر کار وزیر اعظم نے مداخلت کی کہ سندھ اور پنجاب کے وزراءاعلیٰ کی میٹنگ بلائی گئی جس میں یہ تسلیم کیا گیا کہ چشمہ جہلم لنک کینال کھولے جانے کا فیصلہ غلط تھا اور پھر فیصلہ تبدیل بھی ہوا اور چشمہ جہلم لنک کینال بند کر دیا گیا۔ سندھ سرکار نے اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا۔ ارسا میں سندھ کے ممبر محمد خان میمن اور وفاق کے ممبر شیرڈ ہر کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے انہیں اپنی سیٹوں پر کام کو جاری رکھنے کو کہا گیا۔ یہ فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا۔ سندھ اور وفاق کے ممبران نے بھی اس فیصلے پر دستخط کر دیئے۔ چشمہ جہلم لنک کینال جس میں پہلے 10ہزار کیوسک پانی بہایا جارہا تھا اس میں سندھ اور وفاق کے ممبران کے اعتراض کے بعد 15ہزار کیوسک پانی بہانے کا فیصلہ کرایا گیا۔ اس طرح یہ کینال عملی طور پر ایک دن بھی بند نہیں رہا۔ ہم جن نمائندوں کے گن گا رہے تھے ان کی ہمت کی داد دے رہے تھے، وہ سی جے کینال میں پانی بہا کر آئے ہیں اور وہ میڈیا کے سامنے آنے کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ کینال کی بندش کے فیصلے کے بعد وہ اخبارات کو بڑے بڑے انٹرویوز دے رہے تھے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے بیان ریکارڈ پر ہیں کہ سندھ میں میتوں کو غسل دینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے۔ کئی علاقوں میں قحط کی صورتحال ہے اس پر جبری طور پر چشمہ جہلم کینال کھول دیا گیا ہے لیکن اچانک ہی اچانک نہ جانے ایک دن میں کہاں سے اضافی پانی آگیا۔ سندھ میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو گئی جس کے باعث سندھ کے نمائندے چشمہ جہلم لنک کینال کو کھولنے کے فیصلے پر دستخط کر کے آئے۔ ہمارے نمائندے پہلے درست تھے یا اب غلطی پر ہیں۔ اس پر وہ ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ اور وزیر آب پہلے شفقت مسعود کو ہٹانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کیا اب وہ ارسا میں سندھ کے نمائندے محمد خان میمن کو ہٹانے کا فیصلہ کریں گے۔ یہ تو ان کے اختیار میں ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمارے نمائندوں نے چشمہ جہلم لنک کینال کھولنے کے فیصلے پر اس طرح ہاں کی ہے جس طرح ہمارے دیہات میں دلہن سے سر ہلوا کر ”ہاں“ کروائی جاتی ہے۔ یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دباﺅ میں آکر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور وزیر آب سندھ مراد علی شاہ نے ارسا میں سندھ کے نمائندے محمد خان میمن کو حکم کیا اور اس نے ہاں کر دی۔ ہم حیران ہیں کیا سے کیا ہو گیا۔ اگر رضامند ہی ہونا تھا تو پھر اتنا شور شرابا کیوں کیا گیا۔ آسمان سر پر لے لیا گیا اور کہا جارہا تھا کہ لنک کینال کھلنے سے ہم تباہ اور برباد ہو گئے ہیں۔ فصل تباہ ہو جائے گی۔ پینے کا پانی کیا میت کو غسل دینے تک کے لیے پانی دستیاب نہ ہو گا اور صرف ایک ہی دن میں سندھ سرکار نے مو¿قف تبدیل کر دیا اور نمائندوں نے کینال کھولے جانے کے فیصلہ پر دستخط کر دیئے۔ اب قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ خطوط لکھےں گے مگر کسے اور کیا کہیں گے جبکہ چشمہ جہلم کینال کھولنے کی بنیادی شرط ہی یہ ہے کہ سندھ رضامند ہو جائے تو پھر بھی سندھ کے ممبران کے دستخط ارسا کے فیصلے پر موجود ہیں۔ ہم سندھ کے حکمرانوں کو کہتے ہیں کہ عوام کو بیووقوف نہ سمجھ نہ ہی ان کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کرو۔ آپ کا اجلاسوں میں مو¿قف ایک ہوتا ہے باہر آکر دوسری باتیں کرتے ہو۔ اگر چشمہ جہلم لنک کینال پر اعتراضات بجا تھے تو پھر سندھ کے ممبران نے دستخط کیوں کیے۔ اگر سندھ کی رضامندی کے بغیر زور و جبر سے چشمہ جہلم کینال کھولا جاتا تو کم از کم آپ اپنے ووٹرز کو منہ دکھانے کے قابل تو نہ رہتے اور یہ کہہ سکتے تھے ارسا نے اکثریت رائے سے فیصلہ کیا ہے۔ ہم اس میں رضامند نہیں ہیں اگر سندھ میں کسی بھی ؟؟؟ کو اس میں پانی نہ پہنچا تو اس کے ذمہ دار آپ ہیں۔ سندھ کے لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں قائم سندھ سرکار ان کے مفادات کے تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔“
آج کے سندھ کا ایک خوفناک منظر
روزنامہ سوبھ کی 16جولائی کی اشاعت میں امتیاز جونیجو کا مضمون ”آج کے سندھ کا ایک خوفناک منظر“ شائع ہوا ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ”ماضی کے مہذب سندھ میں آج کل جو ہورہا ہے اس سے لاتعلق ہو کر کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے جس کا موجود ہ سندھ کی سماجی صورتحال میں کوئی وجود ہی نہ ہو۔ سب کچھ ماضی کا قصہ بنتا جارہا ہے۔ جہالت کے جن نے لوگوں کو اتنا تو وحشی بنا دیا ہے جو ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جن میں درندگی کے روپ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ آج کے سندھ میں عورت کا کتنا احترام کیا جاتا ہے۔ اس کا خوفناک منظر کل ٹی وی اسکرین پر لوگوں نے دیکھا جب لاڑکانہ میں ایک لڑکی حفیظاں کو اس کا بڑا بھائی اور شوہر درندوں کی طرح لوگوں کے سامنے مار پیٹ رہے تھے۔ بعد میں جب لڑکی کو گاڑی میں لے جا کر کسی انجانے مقام پر قتل کرنے کی کوشش کررہے تھے تو نہ جانے کہاں سے اس معصوم لڑکی میں اتنی ہمت پیدا ہو گئی کہ وہ گاڑی سے کود پڑی۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی اس کی مدد کی جائے۔ اس کا شوہر اور بھائی جن کی نظر میں وہ ان کی ملکیت تھی سرعام تذلیل کررہے تھے۔ یہ آج کے سندھ کی ایک خوفناک تصویر ہے جس کو چاہتے ہوئے بھی کوئی نظریں نہیں چرا سکا۔ حفیظاں کی زندگی تو میڈیا میں خبر آنے سے بچ گئی ہو مگرنہ جانے کتنی لڑکیاں اپنے ہی عزیروں کے ہاتھوں زندگیاں گنوا چکی ہیں۔ سندھ میں ایسی وحشی وارداتوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے مگر امن و امان کے ٹھیکیداروں کا یہی کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہے۔“
اک نئے امتحان کی گھڑی
روزنامہ کاوش نے 14 جولائی کے اداریے بعنوان ”اک نئے امتحان کی گھڑی“ میں لکھا ہے کہ ”موجود حکمران جو اپنے ڈھائی سالا دور میں سندھ کے دار الحکومت کراچی میں سندھ کے دیگر شہروں میں طلباءکو تعلیم کا حق نہیں دلواسکے۔ ان کے لیے کیپیٹل سٹی پولیس کا کراچی کی جانب سے 10جولائی کے اخبارات میں چھپنے والا اشتہار ایک بار پھر نیا امتحان لے کر آیا ہے۔ اس اشتہار میں صرف کراچی ڈومیسائل رکھنے والے نواجوانوں کو ہی درخواست دینے کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔ مشرف دور میں سندھ کے نوجوانوں کے لیے سندھ کے دارالحکومت کراچی میں روزگار کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے۔ سندھ کے نوجوانوں کو کراچی کے بڑے تعلیمی اداروں میں بھی داخلہ پر پابندی لگ گئی۔ اس ردعمل میں سندھ کے عوام نے پی پی پی کو ووٹ کیا لیکن ناانصافیوں کا تدارک نہ کیا گیا۔ حکومت اپنے ڈھائی سالہ دور میں جب صرف مفاہمت کا ہی مان رکھتی ہے اور سندھ کا نوجوان سندھ کے دارالحکومت میں روزگار اور تعلیم کاحق حاصل کرنے سے محروم رہا۔ کیا اس طرز حکمرانی سے مینڈیٹ کا بھرم رہ جائے گا لیکن موجودہ حکمران مفادات کے نام پر یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ انہیں کس لیے یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ وفاق سے حقوق لینا تو دور کی بات لیکن جو حکمران اپنے ہی صوبے میں بے بس ہوں اس سے زیادہ دکھ کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والے حکمران پہلے سندھ کے دارالحکومت میں سندھ کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کا حق دلوائیں۔ مفاہمت ضروری ہے مگر وہ عوام کے مفادات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہےے کیوں کہ بہتر تعلیم اور روزگار کے مواقع سندھ کی راجدھانی میں ہی ہیں لیکن سندھ کی راجدھانی سندھ کے دیگر شہروں اور دیہاتوں کیلئے ممنوع ہے۔ کراچی میں رہنے والے بنگالی، بہاری، برمی اور افغانی تو کراچی کا ڈومیسائل بنوا کر تعلیم اور روزگار کے حقدار بن جاتے ہیں لیکن سندھ کے دوسرے شہروں کے نوجوانوں کے لیے کراچی کے دروازے بند ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کیپیٹل پولیس میں کانسٹیبل کی پوسٹوں کے لیے دیئے گئے اشتہارات سے ہی آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی انتظامیہ کی نیت کیا ہے؟ کیا کراچی کی انتظامیہ سندھ کے ماتحت یا دائرہ اختیارات میں نہیں ہے؟ معاملہ صرف کانسٹیبل کی نوکری کا نہیں ہے بلکہ سندھ کی حکمرانی اوراقتدار کا بھی ہے اور عوام کا مینڈیٹ کا بھرم رکھنے کا بھی ہے۔ سندھ کا دارالحکومت سندھ کے عوام کے لیے اجنبی شہر بنتا جارہا ہے۔ سندھ کے حکمرانوں نے کیا اس حوالے سے کبھی غور کرنے کی کوشش کی ہے۔ سندھ اسمبلی میں پی پی پی کی اکثریت ہے لیکن وہ مفاہمت کے ہاتھوں اتنی مجبور ہے کہ کراچی کے ڈومیسائل کے لازمی قانون کو بھی ختم نہیں کرواسکی۔ اقتدار سندھ کے مفادات سے زیادہ عزیز نہیں ہونا چاہےے۔ جس طرح کراچی کا شہری کوٹا ہے اور تمام سندھ میں نوکریوں میں کراچی کے لوگ یہ کوٹا حاصل کرتے ہیں لیکن جب کراچی میںجا بز کا معاملہ آتا ہے تو یہ تمام نوکریاں کراچی کے ڈومیسائل رکھنے والوں کے لیے کیوں؟ سندھ سرکار کے پاس آخر اس بات کیا جواب ہے کہ سندھ کے حکمرانوں کو گزارش ہے کہ سندھ کے عوام کو وعدوں کے بندھن میں دربدر کرنے کی بجائے کراچی میں روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کر کے مینڈیٹ کا بھرم رکھا جائے۔“
بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان سندھ کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے
روزنامہ مقدمو نے 19 جولائی کے اداریے بعنوان ”بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان سندھ کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے“ میں لکھا ہے کہ ”مشترکہ مفادات کی کاﺅنسل کا اجلاس گزشتہ روز سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا جس میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور سی سی آئی کے ممبران موجود تھے۔ سی سی آئی کے اجلاس میں توانائی کے بحران پر بھی بحث کی گئی اور اس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار کے لیے بھاشا ڈیم کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔ مشترکہ مفادات کی کاﺅنسل اس لیے تشکیل دی گئی تھی تاکہ صوبے ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں گے۔ کسی بھی صوبے کی حق تلفی نہیں ہو گی لیکن گزشتہ اجلاس میں سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی حل نکالا گیا۔ سی سی آئی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ملک میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر کینالوں میں پانی بہایا جارہا ہے اور ڈیم بنائے جارہے ہیں جبکہ سندھ میں پانی کی کمی کے باعث ڈیلٹا تباہ گیا ہے اور زراعت کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ سندھ کے حکمران جلسوں اور میڈیا میں تو سندھ کے مفادات کی بات بڑی تفصیل سے کرتے ہیں مگر اجلاسوں میں کوئی بات نہیں کرتے۔ ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ سی سی آئی کا گزشتہ اجلاس سندھ کے احتجاجوں کا حل نکالنے کا ایک بہتر موقع تھا مگر حکمرانوں نے سندھ کے مسائل کے حل پر غور نہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک صوبے کے لیے ہی سوچتے ہیں۔“
دیہی ترقی اور پی پی پی سرکار
روزنامہ سندھ کی 20 جولائی کی اشاعت میں عدنان شیخ کامضمون ”دیہی ترقی اور پی پی پی سرکار“ شائع ہوا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ”پاکستان کی شرح آبادی 32.5 فیصد ہے جو پڑوسی ملکوں (سارک) میں سب سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب سندھ میں اس کی شرح 49 فیصد ہے۔ شہروں کی جانب نقل مکانی کا اہم سبب دیہات میں سہولیات کی عدم فراہمی ہے۔ گزشتہ دیہائی میں دیہات میں کوئی ترقی نظر نہیں آئی۔ موجود وقت میں جب سندھ کے دیہی علاقے میں نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ ہی زراعت کی حالت اچھی ہے۔ اس مسئلے پر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ صحت، تعلیم، روزگار پر خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے جبکہ صنعتی ترقی کے لیے دیہی علاقے ٹیکس فری زون قائم کئے جائیں جس سے سندھ کے دیہی علاقوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں مرتب ہوں گی۔“
٭٭٭ |