سامراج دشمن مزاحمتی عوامی تحریک ہی موجودہ بحران کا حل نکال سکتی ہے
(ایک عمومی تجزیہ)
پاکستان کی ریاست، حکومت اور سماج کے حوالے سے جو بھی تحریر یا تجزیہ ملتا ہے ا سمیں واضح طور پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ پاکستان سخت بحران میں ہے۔ یہ بحران کیاپاکستان بننے سے ہے یا یہ عارضی حکومتی بحران یا بحرانات ہیں جو حکومت کے جانے اور دوسری حکومت کے آنے سے ختم ہو جائیں گے۔ موجودہ نیم جمہوری دور میں عام سطحی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کہیں شعوری طور پر تو کہیں غیر شعوری طور پر یہ بات کہہ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی حکومت کرپٹ ہے اور اس کی وجہ یہ معاشی سماجی اور سیاسی بحران موجود ہے اور اگر وہ کسی بھی طرح ہٹ جائے تو ملک ٹھیک ہو جائے گا اور ہر سطح پر بہتری آجائے گی۔
جیو نیوز، ڈاکٹر شاہد مسعود اور اس طرح کے بورژوا حکمران طبقات کے نمائندہ تجزیہ نگار دانشور نیز چینلز عوام کو گمراہ کرنے کی ہر سطح پر کوشش کرر ہے ہیں کہ زرداری حکومت اگر چلی جائے تو بہتری آجائے گی۔ ہر جگہ حالات بہتر ہوتے چلے جائیں گے۔ پاکستان اس وقت اگر تباہی کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے تو یہ بھی اس حکومت کی ہی کارستانی ہے وغیرہ۔ درحقیقت یہ ٹی وی اینکرز اور نیوز چینل بھی یہ کوشش شعوری طور پر کررہے ہیں تاکہ پاکستان کے اس بڑے ریاستی بحران کو چھپا سکیں جو دن بدن گہرا ہوتا جارہا ہے۔ ہم اگر پاکستان کی ریاست ،معاشرے اور سیاسی عدم استحکام کا جائزہ لیں تو یہ تضادات ہمیں واضح طور پر نظرآئیں گے:
(۱) پاکستانی ریاست کا نظریاتی بحران اور دو قومی نظریہ۔
(۲) پاکستان کی ریاست اور جمہوریت کا مسئلہ۔
(۳) پاکستان میں قومی مسئلہ اور قومی آزادی کی تحریک۔
(۴) ریاست، عالمی سامراجیت اور عوامی مزاحمت۔
(۵) بنیاد پرست قوتیں اور سیکولر تحریک۔
پاکستان بنیادی طور پر انہی 5اہم تضادات میں گھرا ہوا ہے۔ ریاست اور اس پر قابض حکمران سول و فوجی طبقات کی یہ کوشش رہی ہے اور اب بھی ہے کہ کسی بھی فکری و عملی سطح پر پاکستان میں ان تضادات و معاملات پر کسی بھی قسم کا کوئی بحث ممنوع ہے۔ خاموشی کا ایک کلچر متعارف کروایا گیا ہے کہ پاکستا ن کے بنیادی مسائل پر خاموشی رہے۔ ہم انہی اہم تضادات یا معاملات کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔
ہندوستان کو تقسیم کرنے اور اس خطے کی سامراجیت مخالف مزاحمت کو ہمیشہ کے لیے کمزور کرنے کے لیے انگریز سامراج نے مذہب کا سہارا لیا اور اپنے پٹھو سرمایہ دار و جاگیردار طبقے کی معرفت مسلم لیگ اور کانگریس کی رہنمائی میں پاکستان کی ریاست کو معرض وجود میں لایا گیا۔ پاکستان کے وجود کے لیے جو تصورات پیش کیے گئے وہ یہ تھے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک پاک دھرتی اور اسلامی ریاست کا قیام نہایت ضروری ہے۔ جس میں مسلمانوں کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے اوپر سماج قائم کرنے اور زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔ اس طرح دو قومی نظریے جیسے انتہائی غلط اور سطحی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا۔ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔
مذہب کیوں کہ آسان ذریعہ تھا لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے اور 1947ءکے بعد بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہر سطح پر عالمی آشیر واد کے ساتھ سرد جنگ میں پاکستان کو ایک عالمی سامراج کی چوک بنا دیا گیا۔ مذہب کو ریاستی سطح پر پروان چڑھا کر اسلامی بنیاد پرستی اور ملائیت کو طاقتور کر دیا گیا۔ اسلامی ریاست، اسلامی سلطنت اور اسلامی نیو کلیئر جیسے تصورات سماج میں عام کیے گئے۔ مذہبی جماعتوں کو نظریاتی سرحدوں کا محافظ بنا کر ان کے سماج میں ہتھیار بند دستے بنوائے گئے۔ (لشکر طیبہ، جیش محمد، سپاہ صحابہ) مذہبی تحریکوں اور بنیاد پرستوں کی ریاست اور اس کے اوپر حکمران فوجی ٹولے کے آقا امریکہ کو جب یہ ضرورت نہیں رہی تو اتحادی بنیاد پرستی کو غلط کہا جارہا ہے۔ پاکستان میں موجودہ حالات میں یہ ایک اہم بحران ہے کہ روایتی سوچ رکھنے والے ریاستی حصے جو کہ اسلامی تصورات کے تحت چلتے آئے ہیں ،وہ اچانک ہی ایک روشن خیال اور غیر اسلامی خارجہ و داخلہ پالیسی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ خود ریاست اور فوج کے اندر امریکہ کی نئی حکمت عملی اور نئی خارجہ پالیسی پرشدید اختلاف ہے جس کی وجہ سے ہم خود کش بم دھماکے، فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے اور بریگیڈیئر سطح کے لوگوں پر اسلامی انتہا پسندوں کے حملے دیکھتے ہیں۔ وانا اور وزیرستان میں آپریشن اور اس پر اختلافات دیکھتے ہیں۔ یہ تضاد ریاست کو ایک بڑے بحران میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ پاکستان میں کبھی بھی ریاستی سطح پر یہ قبول نہیں کیا گیا کہ یہاں قومیں بھی موجود ہیں جن کی تاریخ وطن، وسائل، ثقافت، کلچر اور بنیادی حقوق ہیں جن کو تسلیم کیا جانا چاہےے۔ مگر یہاں جس نے بھی قومی حقوق کی بات کی، قوموں کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی بات کی، اس کو غدار کہا گیا، گرفتار یا قتل کر دیا گیا۔ اس طرح جمہوری اور طبقاتی حقوق کی بات کرنے والوں کے ساتھ بھی اس ہی طرح کا ایک فاشسٹ عوام دشمن رویہ اختیار کیا گیا۔ اس ہی وجہ سے یہاں مضبوط قومی تحریکوں نے بھی جنم لیا۔ خاص طور پر بنگالیوں کی اور بعد میں بلوچستان کی قومی تحریک جو کہ موجودہ حالات میں گوریلا جنگ کی طرف بڑھ چکی ہے۔
سندھ میں بھی قومی حقوق کی لڑائی ایک ایسے مرحلے کی طرف جارہی ہے جہاں سے عین ممکن ہے کہ وہ پرتشدد رخ اختیار کر لے کیوں کہ مسلسل جمہوری جدوجہد کرنے سے آج تک حکمران طبقات نے سندھ کے بنیادی موت اور زندگی کے معاملات پر کبھی بھی سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ اگر ہم سندھ کے پانی کی چوری اور چشمہ جہلم لنک کینال کو ذہن میں لائیں تب بھی یہ بات واضح ہو جائے گی۔ قومی حقوق اگر تسلیم نہیں کیے جائیںگے تو حالات مزید خراب ہوں گے اور جبر کی بنیاد پر کھڑی ریاست آخر کب تک جبرو تشدد کا سلسلہ جاری رکھ سکے گی۔
عالمی سامراجیت کی یہاں پر مداخلت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور امریکی فوج نے تو پاکستان کی سرحدوں تک کو مکمل طور پر چیلنج کر دیا ہے۔ ڈرون حملے عام بات تھے اور نیٹو کی فوج نے کئی مرتبہ پاکستانی سرحدوں میں داخل ہو کر کارروائیاں کی ہیں۔ ایسی صورتحال میں بنیاد پرست مذہبی قوتوں کو جھوٹے سامراج دشمن اور اس طرح کے پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملتا ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ عوام کے اندر بھی عالمی سامراجیت کے خلاف ایک حقیقی سامراج دشمن تحریک موجود ہے ۔ریاست اس پر حکمران فوجی و سویلین گروہوں کے خلاف مزاحمت و نفرت کو جنم دے رہی ہے اور تیزی سے عوامی شعور اس دائرے میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو کہ خود بھی ریاست کے اندر تضادات کو جنم دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف یہ سبھی تضادات ہیں اور دوسری طرف ایک بڑی اکثریت کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ۔ چند سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے اور سردار ساری دولت اور وسائل کے مالک ہیں۔ وہ ہر قسم کا معاشی استحصال کررہے ہیں۔ حکومت میں بھی وہ ہیں اور ایم ایم ایف ورلڈ بینک کے کہنے پر مہنگائی بھی وہی کررہے ہیں۔ اس طرح ایک حقیقی عوامی نفرت و مزاحمت سارے ملکیتی سرمائے کے سرشتے کے خلاف جنم لے رہی ہے۔ یہ سبھی تضادات ایسی صورتحال پیدا کررہے ہیں جوکہ مکمل طور پر ایک سے زیادہ بحرانوں کو جنم دے رہے ہیں۔
حکمران طبقات کے پاس اس بحرانی سلسلے کے حوالے سے کسی بھی قسم کا کوئی حل نہیں اور یہاں سے ہی نئی بحث کا آغاز ہوتا ہے کہ ایک حقیقی، عوام دوست، قوم دوست، سامراج دشمن مزاحمتی عوامی تحریک ہی موجودہ بحران کا حل نکال سکتی ہے۔
٭٭٭ |