پاکستان کا پہلا واحد آن لائن ترقی پسند ہفت روزہ مزدور جدوجہد
بستی دانشمنداں سے پرتاپ پورہ تک
قبل از تقسیم ہند مشرقی پنجاب کا ضلع جالندھر 12بستیوں اور تہرویں شہر جالندھر پر مشتمل تھا۔ بستی دانشمنداں اور پرتاپ پورہ کا تعلق بھی ضلع جالندھر سے ہے۔ کوئی سو سال پہلے بستی دانشمنداں اور پرتاپ پورہ سے کسانوں نے نکل مکانی کی اور وہ ساندل بار میں آباد ہوئے۔ ساندل بار کا علاقہ ضلع فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ضلع جھنگ کے کچھ علاقہ پر مشتمل جنگل تھا۔ جسے انگریزوں نے آباد کار بلا کر اس علاقہ کو زراعت کے لیے آباد کیا۔ آج فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی بیشتر آبادیوں اور گاﺅں کے نام ضلع جالندھر میں رہ جانے والے گاﺅں اور آبادیوں سے منظوم ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ کے ایک گاﺅں کا نام بھی بستی دانشمنداں ہے جو ہندوستان کے مشرقی پنجاب میں کسان چھوڑ آئے تھے۔ بستی دانشمنداں کا پہلی بار نام ہم نے کوئی 1994-95ءمیں سنا تھا اور یہ نام ہمارے دل کو بھا گیا۔ دل چاہتا کہ اڑ کر چلا جاﺅں اور بستی دانشمنداں کے مکینوں سے ملوں لیکن موقع ہی نہ بن پایا بات آئی گئی ہو گئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم مزدور جدوجہد میں سرکولیشن کی ڈیوٹی انجام دیا کرتے تھے کہ تحصیل گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہمیں ایک قتل کی رپورٹ موصول ہوئی۔ قتل گاﺅں کے چوہدریوں نے کیا تھا اور مقتول کی جیب سے پانچ روپے اور کے ٹو کے سگریٹ کی ڈبی میں پانچ یا چھ سگریٹ اور ایک آدھا بجھا ہوا سگریٹ تھا۔ اس رپورٹ میں قتل کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ مقامی چوہدریوں کے گھر میں شادی تھی اور انہوں نے نصیبو لال کو گانے کے لیے بلا رکھا تھا۔ مقتول جو کہ اسی گاﺅں کا پاور لومز ورکر تھا اور چوہدریوں کے دروازے پر کھڑا ہو کر نصیبو لال کا گانا سننا چاہتا تھا کہ چوہدریوں کے بیٹے نے اسے منع کیا لیکن وہ بضد ہوا کہ میں دروازے پر کھڑا ہو کر سن لوں گا تو تمہارا کیا جائے گا؟ چوہدراہٹ جوش میں آگئی اور پاور لومز ورکر پہلے فائر پر ڈھیر ہو گیا۔ مزدور جدوجہد میں قتل کی خبر بیک ٹائٹل پر شائع ہوئی تو مقامی میڈیا بھی اس ظلم اور زیادتی کے خلاف منظم ہو گیا۔ چوہدری کے بیٹے پر قتل کی ایف آئی آر کٹی اور ورکر کے خاندان کو ریاستی سطح سے مالی امداد بھی مل گئی۔ہم نے رپورٹ بھیجنے والے کو خط لکھا کہ ادارہ آپ کا مشکور ہے کہ آپ نے ایک ورکر کے لیے جدوجہد کی اور مظلوم کی فریاد شائع ہوئی۔ برائے مہربانی آپ ظلم اور زیادتی پر ہمیں رپورٹیں ارسال کیا کریں۔ ادارہ آپ کی بھیجی ہوئی رپورٹوں کو شائع کرے گا۔ ہمارے خط کے جواب میں جو ہمیں ایڈریس موصول ہوا وہ تھا ”246گ ب بستی دانشمنداں تحصیل گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا کہ بستی دانشمنداں دیکھنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ ہم بہت خوش تھے کہ دانشمندوں سے میل ملاپ ہو گا۔مگر کوئی نو دس سال بعد اس ماہ جولائی میں ہم ٹوبہ ٹیک سنگھ گئے تو قتل کی رپورٹ ارسال کرنے والا طارق محمود جس سے اب ہمارا تعلق گزشتہ 12-14 سال سے گہرا ہوگیا ہے اور وہ لیبر پارٹی کا ضلعی رہنما بن چکا ہے ہمیں اپنے گاﺅں تیسری بار بستی دانشمنداں لے گیا۔ ہم بستی دانشمنداں کے پہلے وزٹ پر بستی دانشمنداں پر لکھنا چاہتے تھے کہ کوئی نہ کوئی اور موضوع ہمارے سامنے آجاتا لیکن اس بار تہیہ کیا کہ اپنے پڑھنے والوں کو بستی دانشمنداں کی دانش سے روشناس کرواﺅں۔ہم نے اپنے ساتھی سے پوچھا یار تم بائیں بازو کی طرف کب اور کیسے آئے۔ تو وہ کہنے لگا۔ کیا دائےں اور کیا بائیں، چھوڑو میں انسانوں کے ساتھ برے سلوک اور ان کو غلام سمجھنے والوں کے خلاف ہوں۔ حالانکہ میری تربیت پانچویں کلاس کے بعد مدرسے میں ہوئی۔ 2سال تک مدرسے میں مولویوں کا اصل روپ دیکھا اور ایک فرقے کا دوسرے فرقے کو کافر قرار دینا اور سنی کا وہابی کی مسجد پر قبضہ، میں تنگ تھا اور راستے کی تلاش میں تھا۔ آپ لوگوں سے تو ملاقات 1995ءمیں ہوئی۔ کب اور کیسے ہوئی وہ بعد میں سناﺅں گا۔ پہلے جس دانش کو تم دیکھنا چاہتے ہو۔ اس کا نام تو بستی نمرواں ہونا چاہئے تھا۔ یہاں کے چوہدریوں کو ذیل دار کہا جاتا تھا۔قُرب و جوار کے گاﺅں میں ان کی نمرودی چلتی تھی۔ ہمارے بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ کسی کی خوبصورت بیٹی پر پہلا حق چوہدریوں نے دھونس سے اپنا بنارکھا تھا۔ وہ کسی کے بھی گھر داخل ہو جاتے اور اپنی جوتی دروازے پر اتار جاتے۔ گھر کے مکین کی جرا¿ت نہیں تھی کہ وہ چوں بھی کرے اس گاﺅں میں ناچ گانا کرنے والی نٹ برادری کے میلے لگتے جہاں لڑکیاں فروخت ہوتیں اور چوہدری اس خریدوفروخت میں اپنا حصہ لیتے۔ یہاں صرف زمینیں ایک ذات کے لوگوں کو الاٹ ہوئیں تھی کمی یعنی کہ موچی، تیلی، لوہار، جولاہا و دیگر قومیں ان کی رعایا تھیں۔ یہ چوہدری سو سال پہلے ہندوستان کے ضلع جالندھر میں خود پٹھانوں کے غلام تھے جو کچھ یہ کرر ہے تھے جالندھر میں ان کے ساتھ پٹھان کیا کرتے تھے جس کی سٹوری کبھی بعد میں لیکن جو بات میں آپ کو بتانے والا ہوں وہ یہ کہ جنرل مشرف نے جب بلدیاتی الیکشن کا پہلا راو¿نڈ چلا تو میں نے اپنے پھوپھی ذاد بھائی کو کہا کہ وہ اس الیکشن میں جنرل کونسلر کا الیکشن لڑے۔پرتاب پورہ بستی دانشمندوں کی اضافی آبادی پر مشتمل گاﺅں ہے جو ہماری یونین کونسل اور گاﺅں میں شامل ہے۔ بس جی پھر کیا تھا۔ چوہدریوں نے میرے والد میرے تایا جی، بھائیوں، پھوپھی زاد بھائی جو کہ الیکشن میں امیدوار تھا کے باپ کو اپنے ڈیرے پر بلایا۔ چوہدری صاحب تکیہ لیے چارپائی پر بیٹھے تھے اور میری فیملی اور دوسرے گاﺅں کے لوگ چوہدری کے سامنے مجرموں کی طرح زمین پر بیٹھے۔ بس یہاں سے کام اسٹارٹ ہوا اور پھر! پھر سہی۔۔۔ ٭٭٭